مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی بحریہ کے ڈپٹی کمانڈر ایڈمرل بمانی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکہ کی کمزوریوں کو نشانہ بنانے کے لیے نئے ہتھیار تیار کیے ہیں اور دشمن کی حکمت عملیوں کا جواب دینے کے لیے نئے طریقے اختیار کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج نے حالیہ جنگوں کے تجربات سے سبق سیکھا ہے۔ دشمنوں کی دھمکیاں ایران کے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ اسلامی انقلاب کے آغاز سے ہی اسلامی جمہوریہ ایران کو مسلسل دھمکیوں کا سامنا رہا ہے، جن کا اظہار کبھی خفیہ اور کبھی کھلے عام کیا جاتا رہا ہے۔
ایڈمرل بمانی نے کہا کہ ایران کی جوابی کارروائیوں کے بعد مخالف قوتیں ایرانی سمندری سرحدوں سے کافی دور پیچھے ہٹ گئی ہیں اور اب ایران عراق جنگ کے بعد سے اپنے فاصلے کے اعتبار سے ایرانی سمندری سرحدوں سے سب سے دور تعینات ہیں۔
ایران پر مسلط کی گئی دو جنگوں، یعنی 13 جون اور 28 فروری کی جنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے ریئر ایڈمرل بمانی نے کہا کہ ایرانی بحریہ نے پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ساتھ مل کر بعض مواقع پر امریکی افواج کو بھاری نقصان پہنچایا، جس کا اعتراف مخالف فریق نے بھی بعض مواقع پر کیا ہے۔
ایرانی بحریہ کے ڈپٹی کمانڈر نے بحری ناکہ بندی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے سیاسی اور اقتصادی میدانوں میں مختلف حکمت عملیوں پر عمل پیرا ہے۔
آپ کا تبصرہ